حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محسن اراکی نے مدرسہ علمیہ امام کاظم (ع) قم کے کانفرنس ہال میں حوزہ علمیہ کے دروس خارج اور اعلی سطحی تعلیمی اساتذہ کے ساتھ منعقدہ ایک نشست میں خطاب کے دوران سلطنت طلب طاقتوں پر قوموں کی فتح میں "روح ایمان" کے اہمیت کو بیان کیا۔
انہوں نے کہا: قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی روایات سے واضح طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو چیز قوموں کو برتر طاقتوں کے سامنے کھڑا کرتی ہے اور انہیں فتح سے ہمکنار کراتی ہے، وہ وہی حقیقت ہے جسے قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: «لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لَوْ کانُوا آباءَهُمْ أَوْ أَبْناءَهُمْ أَوْ إِخْوانَهُمْ أَوْ عَشیرَتَهُمْ أُولئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِهِمُ الْإیمانَ وَ أَیَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدینَ فیها رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ أُولئِکَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» "تم کوئی ایسی قوم نہیں پاؤگے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو (اور پھر) وہ دوستی رکھے ان لوگوں سے جو خدا و رسول(ص) کے مخالف ہیں اگرچہ وہ (مخالف) ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی ہی ہوں یا ان کے قبیلے والے یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی تائید کی ہے اور انہیں ایسے باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، آگاہ رہو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا (اور کامیاب ہونے والا) ہے۔"
مجلس خبرگان رہبری کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن نے اس روح کی الہی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ الہی روح ہے جو طاقتور استکباریوں کی ناک رگڑتی اور شکست فاش دیتی ہے اور طاقت کا توازن مستضعفین کے حق میں بدل دیتی ہے۔ اللہ کے فضل سے امریکہ جیسی طاقت جسے سب اول نمبر کی طاقت کہتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہر جنگ میں فتح یاب ہوتی ہے، اس روح کے سامنے شکست کھا جاتی ہے۔

آیت اللہ اراکی نے کہا: غیر معمولی حالات میں رہبری کا انتخاب انقلاب کے معجزات میں سے تھا۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ خود مراجع عظام تقلید جن میں آیت اللہ مکارم شیرازی، آیت اللہ نوری ہمدانی اور آیت اللہ سبحانی شامل تھے، ایگزیکٹو بورڈ سے رابطہ کر رہے تھے اور ان سب کی رائے حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے انتخاب پر تھی۔
انہوں نے مزید کہا: ہم نے تجربہ کیا ہے کہ کس طرح امریکہ جو بظاہر فتحیاب طاقت سمجھی جاتی تھی، آسانی سے شکست کی دھول چاٹتی نظر آتی ہے۔ اس دنیا میں اس سپر پاور سے برتر ایک طاقت ہے اور وہ "اللہ کی ارادہ" ہے جیسا کہ ہمارے شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رح) نے فرمایا: "اللہ اس امت کو مبعوث کرے گا اور خود یہی لوگ کام تمام کریں گے۔"
آیت اللہ اراکی نے "روح ایمان" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ روح 'ولایت' کے ذریعے معاشرے میں پھیلتی ہے۔ ولایت جو کام کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ الہی روح (جس کا مکمل اظہار امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ذات میں ہے) کو اللہ کے ولی سے ان کے نائبین تک اور اس کے ذریعے ولائی معاشرے تک منتقل کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: ولایت درحقیقت وہی ربط ہے جو اس روح کو منتقل کرتا ہے: اللہ کے ولی سے اللہ کے ولی کے نمائندے تک اور اس سے اہل ولایت کے معاشرے تک۔ یہ الہی روح ہی ہے جو لوگوں کو متحد اور یکجا کرتی ہے اور انہیں استکباری طاقتوں کے مقابلے میں نفوذ ناپذیر بناتی ہے۔










آپ کا تبصرہ